Friday, 24 June 2011

میں نے آصف زرداری کو سلام لکھ بھیجا


میں نے آصف زرداری کو سلام لکھ بھیجا
ملک کا حال تمام لکھ بھیجا

میں نے پوچھا تم صدر کیسے بنے؟
اس نے قدرت کا انعام لکھ بھجا

میں نے پوچھا شہباز نواز کو نہال کیوں*کیا؟
اس نے کوئی پرانا انتقام لکھ بھیجا

میں نے پوچھا حکومت کب چھوڑو گے؟
اس نے قیامت کی شام لکھ بھیجا

میں نے پوچھا کسی سے ڈرتے ہو؟
اس نے ایک لفظ لانگ مارچ لکھ بھیجا

میں نے پوچھا تمہیں نفرت کس سے ہے؟
اس نے افتخار چوہدری کا نام لکھ بھیجا


یاروں کو آزما کے دیکھ لیا
پارٹی میں بُلا کے دیکھ لیا

موت بھی ہم سے دور بھاگتی ہے
کار کے نیچے بھی آ کے دیکھ لیا

مرتا ہی نہیں یہ جراثیمِ محبت
سیف گارڈ سے بھی نہا کے دیکھ لیا

کوئی سُنتا نہیں فریادِ غریب
ریڈیو پے گانا گا کے دیکھ لیا

ہمارے دل کا پتہ ہی نہیں لگتا
ایکسرے بھی کروا کے دیکھ لیا

Tuesday, 21 June 2011

دل کہاں باقی رہا بس چار خانے رہ گئے


نفرتیں بے مہریاں خود غرضی و ناکامیاں
دل کہاں باقی رہا بس چار خانے رہ گئے

جن کے دامن میں کچھ نہیں ہوتا , ان کے سینوں میں پیار دیکھا ہے


زخمِ دل پربہار دیکھا ہے
کیا عجب لالہ زار دیکھا ہے

جن کے دامن میں*کچھ نہیں ہوتا
ان کے سینوں میں پیار دیکھا ہے

خاک اڑتی ہے تیری گلیوں میں*
زندگی کا وقار دیکھا ہے

تشنگی ہے صدف کے ہونٹوں پر
گل کا سینہ فگار دیکھا ہے

ساقیا! اہتمامِ بادہ کر
وقت کو سوگوار دیکھا ہے

جذبۂ غم کی خیر ہو ساغر
حسرتوں پر نکھار دیکھا ہے

دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے


غصے سے اُٹھ چلے ہو جو دامن کو جھاڑ کر
جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر

دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
بچھتاؤگے، سنو ہو، یہ بستی اُجاڑ کر

یارب رہِ طلب میں کوئی کب تلک پھرے
تسکین دے کے بیٹھ رہوں پاوں گاڑ کر

منظور ہو نہ پاس ہمارا تو حیف ہے
آئے ہیں آج دور سے ہم تجھ کو تاڑ کر

غالب کہ دیوے قوتِ دل اس ضعیف کو
تنکے کو جو دکھا دے ہے پل میں پہاڑ کر